top of page
Search

طویل مارچ 2026 گولڈ اور سلور انٹرنیشنل اور لوکل پاکستانی مارکیٹ کا مکمل جائزہ

انٹرنئشنل منڈیوں میں اس شدید اتار چڑھاؤ کے اثرات پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ میں بھی واضح طور پر محسوس کیے گئے۔ مارچ کے آغاز میں پاکستان میں گولڈ کی قیمت تقریباً 555000 روپے فی تولہ جبکہ چاندی کی قیمت 13500 روپے فی تولہ کے قریب تھی۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ ہی مقامی مارکیٹ میں بھی تیزی سے اصلاح دیکھی گئی۔


23 مارچ تک گولڈ کی قیمت گر کر تقریباً 460000 روپے فی تولہ تک آ گئی جبکہ چاندی تقریباً 8400 روپے فی تولہ تک گر گئی۔ یہ حالیہ برسوں میں مقامی صرافہ مارکیٹ کی تیز ترین کمیوں میں سے ایک تھی۔ تاہم مارچ کے اختتام تک گولڈ کی قیمت تقریباً 496000 روپے فی تولہ جبکہ سلور 9000 روپے فی تولہ کے قریب بند پوئی۔


مارچ 2026 عالمی مالیاتی اور کموڈیٹی مارکیٹس کے لیے ایک غیر معمولی مہینہ ثابت ہوا جہاں مہینے کا آغاز امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ہوا جس نے عالمی توانائی سپلائی کے اہم راستے آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا۔


انٹرنیشنل منڈی میں مارچ کے آغاز پر گولڈ 5375.58 ڈالر فی اونس پر اوپن ہوا جبکہ چاندی 93.7440 ڈالر، خام تیل 75.00 ڈالر فی بیرل اور امریکی ڈالر انڈیکس 97.874 کی سطح پر تھا۔


آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے اس کشیدگی کا مرکزی نقطہ بن گیا۔ ابتدا میں خام تیل کی قیمتیں مختصر طور پر 69.20 ڈالر فی بیرل تک گر گئیں جو ماہانہ کم ترین سطح ثابت ہوئی، تاہم چند ہی دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور مارچ کے دوران تیل 119.48 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔


توانائی کی قیمتوں میں اس تیز اضافے نے عالمی معیشت میں مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا کیونکہ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے نقل و حمل صنعت اور خوراک کی لاگت براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ اس صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں نے مرکزی بینکوں خصوصاً فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی سے متعلق اپنی توقعات تبدیل کرنا شروع کر دیں۔ اس سے قبل مارکیٹوں میں شرح سود میں کمی کی توقع کی جا رہی تھی تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوا کہ مہنگائی طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں امریکی بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوا اور امریکی ڈالر کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔


امریکی ڈالر انڈیکس نے مارچ کے دوران اسی رجحان کی عکاسی کی۔ ڈالر انڈیکس مہینے کے آغاز پر 97.874 پر اوپن ہوا اور ابتدائی طور پر کم ہو کر 97.768 تک آیا جو ماہانہ کم ترین سطح تھی۔ تاہم عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے ڈالر میں سرمایہ کاری بڑھنے کے باعث ڈالر انڈیکس میں نمایاں اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 100.643 کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔ مہینے کے اختتام پر ڈالر انڈیکس 99.856 پر بند ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں ڈالر بدستور ایک مضبوط محفوظ اثاثہ کے طور پر سامنے آیا۔


اس دوران گولڈ کی قیمتوں نے بھی شدید اتار چڑھاؤ دیکھا۔ مارچ کے آغاز پر سونا 5375.58 ڈالر فی اونس پر اوپن ہوا اور ابتدائی مرحلے میں محفوظ اثاثہ کے طور پر طلب بڑھنے کے باعث 5419.07 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔ تاہم جیسے جیسے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کی مضبوطی سامنے آئی گولڈ پر فروخت کا دباؤ بڑھتا گیا۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور ہیج فنڈز نے اپنی پوزیشنز کم کرنا شروع کر دیں جس کے نتیجے میں گولڈ کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئیں اور یہ گر کر 4098.04 ڈالر کی ماہانہ کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔ بعد ازاں مہینے کے آخری حصے میں کچھ استحکام آیا اور گولڈ 4667.09 ڈالر پر بند ہوا جو ماہانہ بنیاد پر تقریباً 611 ڈالر یا 11.6 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔


چاندی نے بھی اسی رجحان کی پیروی کی تاہم اس میں اتار چڑھاؤ نسبتاً زیادہ رہا۔ مارچ کے آغاز پر چاندی 93.7440 ڈالر پر اوپن ہوئی اور ابتدائی طور پر بڑھ کر 96.3960 ڈالر تک پہنچ گئی۔ لیکن عالمی معاشی سست روی کے خدشات ڈالر کی مضبوطی اور سرمایہ کاروں کی پوزیشن ایڈجسٹمنٹ کے باعث چاندی میں شدید فروخت دیکھی گئی۔ اس دوران چاندی گر کر 61.0220 ڈالر کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی۔ مہینے کے اختتام پر کچھ بحالی کے باوجود چاندی 75.1420 ڈالر پر بند ہوئی جو ماہانہ بنیاد پر تقریباً 19.9 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے اور اسے مارچ کے دوران بدترین کارکردگی دکھانے والی بڑی کموڈیٹیز میں شامل کرتا ہے۔


مجموعی طور پر مارچ 2026 عالمی کموڈیٹی مارکیٹس کے لیے ایک تاریخی مہینہ ثابت ہوا جس میں توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ڈالر کی مضبوطی اور قیمتی دھاتوں میں نمایاں اصلاح دیکھنے میں آئی۔ خام تیل 75 ڈالر سے بڑھ کر 119.48 ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچا اور مہینے کے اختتام پر 101.55 ڈالر کے قریب بند ہوا۔ ڈالر انڈیکس 97.874 سے بڑھ کر 100.643 تک پہنچا اور 99.856 پر بند ہوا۔ اس کے برعکس گولڈ 5375.58 سے کم ہو کر 4667.09 پر بند ہوا جبکہ چاندی 93.7440 سے کم ہو کر 75.1420 پر آ گئی۔


پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ نے بھی انہی عالمی رجحانات کی پیروی کی جہاں سونا 555000 سے گر کر 460000 تک آیا اور بعد میں 496000 روپے فی تولہ کے قریب مستحکم ہوا جبکہ چاندی 13500 سے گر کر 8400 تک آئی اور بعد میں 9000 روپے فی تولہ کے قریب آ گئی۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مارچ 2026 عالمی کموڈیٹی مارکیٹس کے لیے حالیہ تاریخ کے سب سے اہم اور غیر معمولی مہینوں میں شمار کیا جائے گا۔


آخر میں آپ کے جزبہ کو جوش دینے کے لئے وہی پرانی ایک معصومانہ سی غزل عرض کروں گا۔


ملال  ہے  مگر   اتنا     ملال  تھوڑی  ہے

یہ آنکھ رونے کی شدت سے لال تھوڑی ہے


بس اپنے واسطے  ہی  فکر مند  ہیں سب لوگ

یہاں کسی  کو    کسی  کا   خیال  تھوڑی  ہے


پروں کو  کاٹ  دیا   ہے  اُڑان  سے   پہلے

یہ خوف ِہجر ہے ، شوقِ وصال تھوڑی   ہے


مزا تو جب ہے کہ تم جان بوجھ کر  ہارو

ہمیشہ  جیت  ہی  جانا    کمال  تھوڑی   ہے


لگانی   پڑتی  ہے   ڈبکی  اُبھرنے  سے   پہلے

غروب ہونے   کا  مطلب  زوال تھوڑی  ہے


~ پروین شاؔکر


گولڈ سلور انٹرنیشنل لوکل مارکیٹ میں مکمل ریسرچ رہنمائی کے لئے گولڈالائز کی پریمیم سروسز حاصل کریں۔


واٹس ایپ پر رابطہ کریں: 03001209057












 
 
bottom of page