top of page
Search

سال 2025 گولڈ سلور کا تاریخ میں اب تک تیز سال رہا تھا مگر کیا سال 2026 اس ریکارڈ کو نیا ریکارڈ کر پائے گا؟

عالمی مالیاتی منڈیوں میں 2025 قیمتی دھاتوں خصوصاً گولڈ اور سلور کی تجارت کے لیے ایک غیر معمولی اور تاریخی سال ثابت ہوا جہاں شدید قیمتوں کے اتار چڑھاؤ نے ریکارڈ منافع کے مواقع پیدا کیے۔ مالیاتی تجزیاتی ادارے کرسل کولیشن گرین وچ کے مطابق دنیا بھر میں بینکوں کے قیمتی دھاتوں کے تجارتی شعبوں نے گزشتہ سال تقریباً 3.9 ارب ڈالر کے مساوی آمدنی حاصل کی جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس شعبے کی سب سے بلند سطح ہے۔


سال کے دوسرے حصے میں چاندی کی عالمی منڈی میں مزید شدید بگاڑ دیکھنے میں آیا۔ اکتوبر کے دوران لندن کی منڈی میں چاندی کی شدید قلت نے ایک تاریخی دباؤ پیدا کیا جس کے نتیجے میں امریکی مستقبل کی تجارت میں چاندی کی قیمتیں نمایاں فرق کے ساتھ ٹریڈ ہونے لگیں۔


اسی دوران بھارت میں چاندی کی غیر معمولی طلب نے عالمی قیمتوں میں مزید عدم توازن پیدا کیا جبکہ سال کے آخری مہینوں میں چین کی جانب سے بڑھتی ہوئی صنعتی اور سرمایہ کاری کی طلب نے مارکیٹ میں تیزی کو مزید تقویت دی۔ لندن میں چاندی ادھار لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت نے ان مالیاتی اداروں کے لیے اضافی منافع پیدا کیا جن کے پاس چاندی کے بڑے ذخائر موجود تھے۔


پاکستان کی مقامی منڈی میں بھی 2025 اور 2026 کے دوران گولڈ اور سلور کی قیمتوں میں تاریخی اور غیر معمولی حرکات دیکھنے میں آئیں۔


گولڈالائز کے مطابق سال 2025 کے آغاز میں پاکستان میں گولڈ کی فی تولہ قیمت تقریباً 275000 روپے تھی جو عالمی تیزی اور مقامی کرنسی کی کمزوری کے باعث اپریل تک بڑھ کر تقریباً 390000 روپے تک پہنچ گئی یعنی صرف چار ماہ میں تقریباً 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔


اس کے بعد مارکیٹ میں اصلاحی مرحلہ آیا اور قیمت کم ہو کر تقریباً 330000 روپے تک آ گئی جو اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 15 فیصد کمی تھی۔ اس سطح کے قریب تقریباً چار ماہ تک استحکام دیکھنے میں آیا جس کے بعد مارکیٹ میں ایک نئی تیزی شروع ہوئی اور اکتوبر 2025 میں گولڈ کی قیمت بڑھ کر تقریباً 475000 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی جو سال کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 73 فیصد اضافہ تھا۔


اکتوبر کی اس بلند سطح کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ اصلاح آئی اور قیمت تقریباً 409000 روپے فی تولہ تک نیچے آ گئی جو اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 14 فیصد کمی تھی۔ تاہم اس کے بعد گولڈ کی قیمتوں میں ایک نئی طاقتور ریلی شروع ہوئی جس نے جنوری 2026 میں تاریخی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے فی تولہ قیمت کو تقریباً 585000 روپے تک پہنچا دیا۔ یہ سطح سال 2025 کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 113 فیصد اضافے کے برابر تھی۔


بعد ازاں مارکیٹ میں ایک بار پھر اصلاحی دباؤ دیکھا گیا اور مارچ 2026 تک پاکستان میں گولڈ کی قیمت نیچے 455000 تولہ سلام کئے اب تقریباً 500000 روپے فی تولہ کے قریب مستحکم ہوتی نظر آ رہی ہے جو ریکارڈ سطح سے تقریباً 25 فیصد کم ہے لیکن تاریخی اعتبار سے اب بھی انتہائی بلند سطح پر برقرار ہے۔


چاندی کی مقامی منڈی میں صورتحال اس سے بھی زیادہ غیر معمولی رہی۔ سال 2025 کے آغاز میں پاکستان میں چاندی کی فی تولہ قیمت تقریباً 3300 روپے تھی تاہم اگست کے دوران مارکیٹ میں شدید قلت اور غیر رسمی منڈی کی سرگرمیوں کے باعث قیمتوں میں تیز ترین اضافہ دیکھنے میں آیا۔


غیر رسمی منڈی میں چاندی کی قیمت بڑھ کر تقریباً 9000 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی جو سال کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 173 فیصد اضافہ تھا۔ اس کے بعد مختصر اصلاح کے بعد مارکیٹ میں ایک اور شدید ریلی آئی جس کے دوران غیر رسمی منڈی میں چاندی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح 18500 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی جو سال کے آغاز کے مقابلے میں تقریباً 460 فیصد اضافے کے برابر تھا۔


بعد ازاں مارکیٹ میں شدید اصلاحی مرحلہ آیا اور قیمت تقریباً نصف تک گر گئی۔ اس وقت چاندی کی قیمت تقریباً 9200 روپے فی تولہ کے قریب ٹریڈ ہو رہی ہے جو اپنی تاریخی بلند سطح سے تقریباً 50 فیصد کم ہے تاہم سال کے آغاز کے مقابلے میں اب بھی تقریباً 180 فیصد زیادہ ہے۔


گولڈالائز کے مجموعی تجزیے کے مطابق عالمی اور مقامی دونوں سطحوں پر قیمتی دھاتوں کی منڈی میں پیدا ہونے والی یہ غیر معمولی حرکات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ گولڈ اور سلور مستقبل میں بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم ترین محفوظ اثاثے رہیں گے۔ جغرافیائی کشیدگی، مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلیاں، عالمی قرضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ اور کرنسیوں کی غیر یقینی صورتحال قیمتی دھاتوں کی طلب کو آئندہ برسوں میں بھی مضبوط رکھنے کے اہم عوامل بن سکتے ہیں۔


گولڈ سلور انٹرنیشنل لوکل مارکیٹ میں مکمل ریسرچ رہنمائی کے لئے گولڈالائز کی پریمیم سروسز حاصل کریں۔


واٹس ایپ پر رابطہ کریں: 03001209057

 
 
bottom of page