GOLD SILVER WEEKLY RECAP ENDING MARCH
- GOLDALYZE

- 7 minutes ago
- 9 min read
Scroll Down For English Version
گولڈ سلور ایک دلچسپ مگر سست مگر حیران کن حفتہ ہوا الوداع۔ برعکس اس ہفتے کی اصل توجہ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی اور مہنگائی کے خدشات پر رہی۔ تاریخی طور پر ایسے حالات گولڈ کے لئے مثبت سمجھے جاتے ہیں مگر اس بار کہانی الگ ہے گولڈ اوپر بجائے نیچے کیوں؟
گولڈ ہفتے کے آغاز میں 23 مارچ بروز پیر کو 4468$ سے کھلتے ہی لال لال ہوتے ایک سفر کا آغاز کیا جہاں قریب 400$ نیچے 4098$ سلام کیا پھر اسی دن واپس آئے اور ہفتہ پورا گول گول گھومے 27 مارچ جمعہ کو 4500$ قریب ہفتہ الوداع کہ گئے۔ کچھ ایسی ہی داستان برامت ہوئی سلور سے۔
مگر یہ تمام عوامل جنگ کے ساتھ چل رہے جہاں ایک طرف جنگ جو شروع ہوئی ایران کے نیوکلیر ڈیمانڈ پر مگر فوکس سارا آرکا تیل پر۔ دنیا بھر کے تمام ممالک تیل کی کمی کے باعث پریشان۔
گولڈ لوکل مارکیٹ میں کچھ اپرکاسٹ ہے چل رہا جہاں اصل ریٹ قریب 472000 فی تولہ بغیر پریمیم جبکہ لوکل مارکیٹ 5 لاکھ قریب ریٹ ہیں چل رہے۔
کچھ خبر اخبار اور تاریخی باتیں شروع کریں تو کہانی میں ٹویسٹ ہے۔
تیل کی مارکیٹ اس ہفتے سب سے زیادہ متحرک رہی اور اسی نے دیگر تمام مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کیا۔ ہفتے کے آغاز پر برینٹ خام تیل تقریباً 105 سے 106 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہو رہا تھا لیکن جنگی خدشات اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث قیمتوں میں تیزی آئی اور ہفتے کے اختتام تک برینٹ تقریباً 111 سے 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تیل تقریباً 94 سے 95 ڈالر سے بڑھ کر 99 سے 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ یہ خدشہ تھا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ مزید پھیلتی ہے تو تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب یمن کی تنظیم حوثی تحریک نے بھی حملوں میں شدت پیدا کی جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کے راستوں کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے۔
امریکی دس سالہ سرکاری بانڈ کی ییلڈ میں بھی ہفتے کے دوران بتدریج اضافہ دیکھا گیا۔ 23 مارچ کو یہ ییلڈ تقریباً 4.33 فیصد کے قریب تھی جبکہ ہفتے کے اختتام تک بڑھ کر تقریباً 4.44 سے 4.45 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف ایک ہفتے میں تقریباً 10 سے 12 بیسس پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ بانڈ مارکیٹ میں اس اضافے کی بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند رہیں تو مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے اور امریکی مرکزی بینک کو شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رکھنی پڑ سکتی ہے۔
اسی دوران جنگی صورتحال بھی مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دی۔ مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں اور خطے میں ایران کے اتحادی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
آنے والے ہفتے کے حوالے سے توقع ہے کہ مالیاتی منڈیاں بدستور جغرافیائی سیاسی خبروں کے زیرِ اثر رہیں گی۔
موجودہ جغرافیائی اور معاشی صورتحال کا تقابل اکثر تاریخ کے دو بڑے واقعات سے کیا جاتا ہے: 1973 تیل بحران اور ایرانی انقلاب 1979۔ ان دونوں واقعات نے عالمی معیشت میں شدید مہنگائی کی لہریں پیدا کیں اور گولڈ کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کا باعث بنے تھے۔
1973 کا تیل بحران اکتوبر 1973 میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران شروع ہوا۔ اس جنگ میں مغربی ممالک کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کے جواب میں اوپیک کے عرب رکن ممالک نے امریکہ اور کئی یورپی ممالک کے خلاف تیل کی پابندی عائد کر دی۔
اس وقت عالمی معیشت مشرق وسطیٰ کے تیل پر انتہائی زیادہ انحصار کرتی تھی اس لیے اچانک سپلائی کم ہونے سے توانائی کا شدید بحران پیدا ہوگیا۔ تیل کی قیمتیں چند ہی مہینوں میں تقریباً 3 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 1974 کے آغاز تک تقریباً 12 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں جو تقریباً 300 سے 400 فیصد اضافے کے برابر تھا۔
اس جھٹکے کے معاشی اثرات انتہائی شدید تھے۔ امریکہ میں پٹرول کی قلت پیدا ہوگئی ساتھ مہنگائی تیزی سے بڑھنے لگی اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہوگئی۔ اس صورتحال کو بعد میں ماہرین معاشیات نے “اسٹیگ فلیشن” کا نام دیا جس میں بیک وقت مہنگائی بڑھتی ہے اور معاشی ترقی کمزور ہو جاتی ہے۔
اس ماحول میں گولڈ نے انتہائی مضبوط ردعمل دکھایا تھا۔ اس بحران سے کچھ عرصہ پہلے ہی عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلی آئی تھی جب 1971 میں بریٹن ووڈز نظام ختم ہوا اور گولڈ کو آزادانہ طور پر تجارت کی اجازت ملی۔ 1973 میں سونے کی قیمت تقریباً 65 سے 70 ڈالر فی اونس کے درمیان تھی۔ جب تیل بحران کے دوران مہنگائی کے خدشات میں تیزی آئی تو نتیجتاً 1974 کے اختتام تک گولڈ کی قیمت بڑھ کر تقریباً 180 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی تھی۔ اس طرح تقریباً دو سال کے اندر سونے کی قیمت میں تقریباً 170 فیصد اضافہ ہوا۔
دوسرا بڑا واقعہ 1979 کا ایرانی انقلاب تھا جس نے مہنگائی اور گولڈ کی قیمتوں میں مزید شدید تیزی پیدا کی۔ 1979 میں ایران میں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت ایک عوامی انقلاب کے نتیجے میں ختم ہوگئی اور آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں ایک انقلابی حکومت قائم ہوئی۔ اس وقت ایران دنیا کے بڑے تیل برآمد کرنے والے ممالک میں شامل تھا اور انقلاب کے نتیجے میں ایرانی تیل کی پیداوار اچانک کم ہوگئی۔ عالمی منڈیوں کو خدشہ تھا کہ یہ انقلاب پورے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پھیلا سکتا ہے۔ اس خوف کے باعث تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھنے لگیں۔ 1978 میں تیل تقریباً 14 ڈالر فی بیرل تھا جو 1980 تک بڑھ کر تقریباً 35 سے 40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا یعنی تقریباً دو سال کے اندر قیمت تقریباً تین گنا ہوگئی۔ اس دوسرے توانائی بحران نے عالمی مہنگائی کو 1973 کے بحران سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ بڑھا دیا۔
گولڈ نے اس صورتحال میں مالیاتی تاریخ کی سب سے طاقتور ریلیوں میں سے ایک دکھائی۔ 1978 میں گولڈ تقریباً 180 سے 200 ڈالر فی اونس کے درمیان ٹریڈ ہو رہا تھا جو پہلے ہی تیل بحران کے بعد بلند سطح پر تھا۔ جب ایرانی انقلاب نے عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کی اور مہنگائی مزید بڑھنے لگی تو جنوری 1980 تک گولاد کی قیمت حیرت انگیز طور پر تقریباً 850 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ دو سال سے بھی کم عرصے میں گولڈ کی قیمت میں تقریباً 300 سے 350 فیصد اضافہ ہوا۔
مگر یاد رہے۔ اس بار گولڈ کی قیمت اوپر بجائے نیچے آرہی ہے۔ مگر ایسا کیوں؟
جنگ کے تناظر میں چند بڑے خطرات ایسے ہیں جن پر عالمی مارکیٹ گہری نظر رکھ رہی ہے۔ ان میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش، امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بحری جنگ، حزب اللہ کی مکمل شمولیت اور سعودی عرب کا اس تنازع میں شامل ہونا شامل ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی بھی واقعہ پیش آتا ہے تو عالمی منڈیوں میں شدید خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے۔
اس وقت مارکیٹ ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف جنگ کی وجہ سے گولڈ کے لیے بنیادی ماحول مثبت ہے جبکہ دوسری طرف بلند شرح سود اور مضبوط ڈالر گولڈ کو نیچے دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مگر گولڈ اپنی بلندی سے قریب لاکھ روپے فی تولہ دور اور سلور تو پچاس فیصد دور البتہ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
اگر آپ یہ سمجھ گئے کہ گولڈ جنگ پر نہیں بلکہ جنگ کے اثرات پر ردعمل دے رہا ہے۔ تو آپ مارکیٹ کو عام لوگوں سے کہیں بہتر سمجھ رہے ہیں۔
عام طور پر جنگی صورتحال گولڈ کے لئے اچھی ہوتی ہے مگر اس بار کہانی کچھ الگ داستان سنا رہی ہے۔
آخر میں ایک معصومانہ سا سوال کہ گھبرائے تو نہیں؟
گولڈ سلور انٹرنیشنل لوکل مارکیٹ میں مکمل ریسرچ رہنمائی کے لئے گولڈالائز کی پریمیم سروسز حاصل کریں۔
واٹس ایپ پر رابطہ کریں: 03001209057
Gold, Silver End Volatile Week as Oil and War Risks Dominate Global Markets
Gold and silver closed an unusually volatile yet directionless week, as geopolitical tensions and surging oil prices drove global financial markets while precious metals struggled to maintain momentum.
At the start of the week on Monday, March 23, gold opened near $4,468 per ounce and quickly came under intense selling pressure. Prices plunged nearly $400, briefly touching $4,098, before staging a sharp intraday recovery. For the remainder of the week the metal moved largely sideways in a broad range, ultimately ending near $4,500 by Friday, March 27. Silver followed a similar pattern, experiencing sharp swings but finishing the week close to where it began.
While precious metals moved in circles, the real driver of global markets this week was the energy sector, where oil prices surged amid escalating tensions in the Middle East.
Brent crude began the week trading around $105–$106 per barrel but climbed steadily as fears grew that the expanding regional conflict could disrupt supply routes. By the end of the week Brent had risen to roughly $111–$112 per barrel. Meanwhile West Texas Intermediate (WTI) advanced from about $94–$95 to nearly $99–$100 per barrel.
The rally was fueled by concerns that a broader regional conflict could threaten key shipping lanes and oil production across the Middle East. Risks intensified further as Yemen’s Houthi movement increased attacks in the region, raising fears over the security of global energy transport corridors.
Bond markets also reflected rising inflation concerns. The yield on the U.S. 10-year Treasury note climbed steadily throughout the week, rising from around 4.33% on March 23 to approximately 4.44–4.45% by Friday, an increase of roughly 10–12 basis points. The move suggests investors are increasingly worried that persistently high oil prices could reignite inflation, potentially forcing the Federal Reserve to keep interest rates elevated for longer.
Meanwhile, the geopolitical landscape continues to grow more complicated. Military operations across the region remain active, and activity from Iran-aligned groups has intensified, further heightening uncertainty across global markets.
Looking ahead, financial markets are expected to remain heavily influenced by geopolitical headlines in the coming week.
Historically, analysts often compare the current environment to two major events that reshaped global markets: the 1973 oil crisis and the 1979 Iranian Revolution. Both events triggered massive inflation waves and powerful rallies in gold.
The 1973 oil crisis began during the Arab-Israeli war when Arab members of OPEC imposed an oil embargo on the United States and several Western countries. At the time, the global economy was heavily dependent on Middle Eastern oil, and the sudden supply shock triggered an energy crisis. Oil prices surged from roughly $3 per barrel to nearly $12 by early 1974, a dramatic increase of about 300–400%.
The economic consequences were severe. Fuel shortages spread across the United States, inflation surged, and economic growth slowed sharply. Economists later described this environment as stagflation, where high inflation and weak economic growth occur simultaneously.
Gold reacted strongly. Following the collapse of the Bretton Woods system in 1971, gold had begun trading freely in global markets. In 1973 gold traded around $65–$70 per ounce, but as inflation fears intensified during the oil crisis, prices surged to nearly $180 by the end of 1974, representing roughly a 170% increase within two years.
The second major event came with the 1979 Iranian Revolution, which created another powerful inflation shock. The overthrow of Shah Mohammad Reza Pahlavi and the rise of Ayatollah Ruhollah Khomeini disrupted oil production in one of the world’s largest exporters. Oil prices surged again, rising from roughly $14 per barrel in 1978 to around $35–$40 by 1980, nearly tripling within two years.
Gold responded with one of the most dramatic rallies in financial history. After trading near $180–$200 per ounce in 1978, the metal surged to nearly $850 by January 1980, representing an extraordinary 300–350% increase in less than two years.
Yet today’s market appears to be behaving differently.
Despite escalating geopolitical tensions, gold has not followed the traditional safe-haven script. Instead of surging higher, prices have experienced significant volatility and periodic declines.
Several major risks remain on investors’ radar, including the potential closure of the Strait of Hormuz, the possibility of direct naval confrontation between the United States and Iran, the full involvement of Hezbollah, or Saudi Arabia entering the conflict. Any of these developments could trigger a dramatic reaction across global markets.
For now, however, the market is facing a striking contradiction.
On one hand, geopolitical instability typically creates a strong bullish environment for gold. On the other hand, high interest rates and a strong U.S. dollar continue to exert downward pressure on precious metals.
This divergence is especially visible in local markets. In Pakistan, the parity price of gold is roughly PKR 472,000 per tola without premium, while the local market is trading closer to PKR 500,000 per tola, reflecting significant domestic premiums.
If there is one key lesson from the current market environment, it may be this: gold is not reacting to the war itself, but to the economic consequences of the war—inflation expectations, interest rates, energy shocks, and global liquidity conditions.
Understanding that distinction may offer a clearer view of the market than most headlines suggest.
The only question left for investors is a simple one:
Are you nervous yet?
Are investors truly prepared for what comes next?
For comprehensive research and guidance on gold, silver, and international and local market trends, subscribe to Goldalyze premium services.
Contact on WhatsApp: +92 300 1209057



