GOLD HOT GOLD COLD, WAR CEASEFIRE FLUID
- GOLDALYZE

- 3 days ago
- 9 min read
Scroll Down For English Version
گولڈ کی انٹرنیشنل مارکیٹ آٹھ اپریل بروز بدھ تازہ تازہ امریکہ ایران جنگ بندی خبر پر گرم ہوا گولڈ شام کو جنگ بندی معاملات میں کچھ گڑبڑ دیکھی گئی ساتھ فیڈ نے گولڈ کے خلاف بات کرکے صبح 4857$ والے گولڈ کو واپس 4700$ قریب آلایا۔
گولڈ لوکل پاکستانی مارکیٹ کی بات کریں تو پاکستانی نازار آٹھ اپریل گولڈ یکدم کل سے دس ہزار فی تولہ اضافہ سے 510000 کے پاس پاس ریٹ رہا جہاں سلور 9000 فی تولہ پر ریٹ رکا رہا۔
کچھ خاص نیا بہیں گولڈ اور سلور دونوں کے بارے میں کہنے کو جہاں دونوں مارکیٹیں خاموش ایک دوسرے پر نظر رکھے کھڑی ہیں۔
کچھ جنگی معاملات پر بات کریں تو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مل کر رات و رات امریکہ ایران کی دو ہفتوں کے لئے مذاکرات بندی کروائی۔ مگر دل چلتے حالات تبدیل ہو گئے۔
امریکہ–ایران کشیدگی اور دو ہفتوں کی جنگ بندی: عالمی حالات پر ایک تفصیلی رپورٹ
آج عالمی سیاست کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ دن ثابت ہوا جب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
ابتدائی طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں دو ہفتوں کے لیے معطل کر رہا ہے بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری مکمل اور محفوظ انداز میں بحری جہازوں کے لیے کھول دے۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو “دو طرفہ جنگ بندی” قرار دیا اور کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔
ان کے مطابق امریکہ اپنے تمام فوجی مقاصد پہلے ہی حاصل کر چکا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی امن معاہدے کے لیے مذاکرات کافی حد تک آگے بڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ دس نکاتی تجویز کو مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
اسی دوران ایران کی قیادت نے بھی اس عارضی جنگ بندی کی منظوری دے دی۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اس تجویز کی توثیق کی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے بند کر دیے جائیں تو ایران کی مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دو ہفتوں کے دوران ایران کی افواج کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے آبنائے ہرمز سے جہازوں کو محدود مگر محفوظ گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
ایران کی دس نکاتی تجویز میں کئی اہم شرائط شامل ہیں جن میں باہمی عدم جارحیت کا عہد، آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو تسلیم کرنا، ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو قبول کرنا، تمام امریکی اور ثانوی پابندیوں کا خاتمہ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی منسوخی، ایران کو جنگی نقصانات کا معاوضہ، خطے سے امریکی فوجی انخلا اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی شرائط شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کو مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل فریم ورک قرار دیا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکہ ایران کے نیوکلئیر پروگرام کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔
اس اعلان کے فوری بعد عالمی منڈیوں میں نمایاں ردعمل دیکھنے میں آیا۔ امریکی خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً دس فیصد کمی واقع ہوئی اور قیمت 118 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی۔ اسی دوران کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی اور بٹ کوائن کی قیمت 71 ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ بعد ازاں دن کے اختتام تک تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
تاہم صورتحال جلد ہی پیچیدہ ہوتی دکھائی دی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم آئل پائپ لائن جو روزانہ تقریباً 70 لاکھ بیرل تیل خلیج سے بحیرہ احمر تک منتقل کرتی ہے۔ ایک ڈرون حملے کا نشانہ بنی۔ یہ حملہ اس جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہوا جبکہ اس سے پہلے ایران امریکہ کو خبردار کر چکا تھا کہ اگر ایرانی تنصیبات پر حملے کیے گئے تو اس پائپ لائن کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگر اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھتا ہے تو وہ جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی بعض مقامات پر خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جو امن عمل کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور طے شدہ دو ہفتوں تک جنگ بندی کا احترام کریں تاکہ سفارت کاری کو مسئلے کے حل کا موقع مل سکے۔
اس دوران امریکہ نے واضح کیا کہ لبنان اس جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے جبکہ اسرائیل نے بھی اس بات پر ناراضی کا اظہار کیا کہ اسے مذاکرات کے دوران مناسب طور پر مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو جنگ بندی کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل آگاہ کیا گیا تھا۔
رات کے وقت صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی جب ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ حقیقی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے۔ اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ ایران کی دس نکاتی تجویز کی کم از کم تین شقوں کی پہلے ہی خلاف ورزی ہو چکی ہے جن میں لبنان میں جنگ بندی کی شق، ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور ایران کے یورینیم افزودگی کے حق سے انکار شامل ہیں۔
ادھر آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی غیر یقینی رہی۔ ایرانی حکام نے اعلان کیا کہ روزانہ صرف تقریباً بارہ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی اور اس پر فیس بھی عائد کی جائے گی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق آج صرف چار جہاز اس آبنائے سے گزر سکے جو اپریل کے مہینے میں اب تک کی کم ترین تعداد ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایک آئل ٹینکر کو گزرنے کی کوشش کے دوران واپس خلیج کی طرف موڑ دیا گیا۔
ان پیش رفتوں کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں اور شام تک قیمت تقریباً 95 سے 97 ڈالر فی بیرل کے درمیان پہنچ گئی۔
اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے تاہم صورتحال اب بھی انتہائی غیر یقینی اور نازک ہے۔
بدھ کے روز گولڈ کی قیمتوں نے دن کے ابتدائی حصے میں ہونے والے نمایاں اضافے 4857$ تک کا بڑا حصہ واپس لے لیا تاہم مجموعی طور پر قیمتیں مثبت سطح پر برقرار رہیں اور فی اونس 4700 ڈالر سے اوپر رہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان نے مارکیٹ میں اہم ردعمل پیدا کیا۔ اس معاہدے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور امریکی فوجی حملوں کی عارضی معطلی شامل ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی۔ امریکی ڈالر کمزور ہوا جبکہ بانڈ ییلڈز میں بھی کمی دیکھی گئی۔ جس نے روایتی محفوظ سرمایہ کاری یعنی گولڈ کی طلب کو سہارا دیا۔
دوسری جانب خطے میں بعض مقامات پر محدود فضائی حملوں کی اطلاعات نے احتیاطی فضا کو برقرار رکھا اور اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی اب بھی نازک مرحلے میں ہے۔
ادھر امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسی ساز کمیٹی کے مارچ اجلاس کے جاری کردہ منٹس سے ظاہر ہوا کہ پالیسی ساز اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مہنگائی کو طویل عرصے تک برقرار رکھ سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مزید شرح سود میں اضافے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ تاہم اس کے باوجود فیڈ حکام اب بھی رواں سال کم از کم ایک مرتبہ شرح سود میں کمی کی توقع رکھتے ہیں۔
گولڈ سلور انٹرنیشنل لوکل مارکیٹ میں مکمل ریسرچ رہنمائی کے لئے گولڈالائز کی پریمیم سروسز حاصل کریں۔
واٹس ایپ پر رابطہ کریں: 03001209057
Gold markets swung sharply on April 8 as investors reacted to rapidly evolving geopolitical headlines surrounding a temporary ceasefire between the United States and Iran, while signals from the Federal Reserve added further volatility to precious metals. Prices initially surged in international trading as geopolitical risk intensified during the day, pushing gold toward the $4,857 per ounce region before reversing part of the gains later in the session. By evening, concerns about potential complications in the ceasefire process and hawkish commentary linked to U.S. monetary policy weighed on sentiment, pulling gold back toward the $4,700 level while still leaving the metal in positive territory for the day.
In Pakistan’s local bullion market, prices moved sharply higher, reflecting both global volatility and currency dynamics. On April 8, gold jumped roughly PKR 10,000 per tola compared with the previous session, with rates hovering near PKR 510,000 per tola across major bullion centers. Silver prices remained relatively stable in comparison, holding close to PKR 9,000 per tola as traders adopted a cautious stance amid the uncertain global outlook.
Market participants say there are few decisive new signals in either gold or silver markets at the moment, with both international and domestic traders largely watching each other for directional cues. Precious metals markets remain sensitive to geopolitical developments, energy market movements, and expectations surrounding global interest rates.
The broader backdrop was dominated by a rapidly shifting geopolitical narrative in the Middle East. Pakistan’s Prime Minister Shehbaz Sharif and Pakistan’s army chief Asim Munir were reported to have played a diplomatic role in facilitating talks that led to a two-week temporary ceasefire between the United States and Iran. The agreement came after rising tensions threatened to escalate into a wider regional conflict and disrupt global energy supplies.
Earlier in the day, U.S. President Donald Trump announced that Washington would suspend military operations against Iran for two weeks on the condition that the Strait of Hormuz be reopened for safe maritime traffic. Trump described the move as a mutual ceasefire and said diplomatic engagement had progressed significantly toward a potential longer-term settlement. According to officials, Iran also accepted the temporary arrangement, with Tehran signaling that it would coordinate safe but controlled passage for vessels through the strategically critical waterway.
Iran’s foreign minister Abbas Araghchi acknowledged the mediation efforts by Pakistan’s leadership and said Tehran would halt defensive operations if attacks on Iranian targets ceased. The proposed framework reportedly includes a ten-point plan addressing issues such as non-aggression commitments, sanctions relief, regional military presence, and nuclear policy disputes.
However, the situation quickly showed signs of fragility. Reports indicated that a major Saudi oil pipeline running from the kingdom’s eastern energy fields to the Red Sea was targeted by a drone attack only hours after the ceasefire announcement. The pipeline, capable of transporting roughly seven million barrels per day, is considered a strategic alternative route designed to bypass the Strait of Hormuz.
Meanwhile, Iran warned that it could withdraw from the ceasefire if Israel continues military operations in Lebanon. Washington also clarified that the temporary arrangement with Tehran does not extend to the Lebanese front, while Israel reportedly expressed dissatisfaction at not being fully consulted during the negotiations.
Pakistan’s prime minister later stated that violations of the ceasefire had been reported in several locations and urged all sides to exercise restraint and respect the two-week agreement to allow diplomacy to proceed. Iranian officials also raised concerns that some elements of the proposed framework had already been breached, including continued military activity in the region and disagreements over Tehran’s nuclear enrichment rights.
Shipping activity through the Strait of Hormuz also remained uncertain. Iranian authorities signaled that only a limited number of vessels would be allowed to pass each day under new security arrangements, with some reports indicating that traffic volumes were among the lowest recorded this month.
Energy markets responded rapidly to the geopolitical developments. Oil prices initially dropped sharply after the ceasefire announcement as fears of immediate supply disruptions eased, though prices later recovered as uncertainty returned to the region. Currency markets also reflected shifting risk sentiment, with the U.S. dollar weakening and bond yields declining, developments that typically support demand for gold as a traditional safe-haven asset.
Despite the partial pullback from intraday highs, gold remained above the $4,700 per ounce level by the end of trading, highlighting persistent investor caution amid the fragile geopolitical environment. Federal Reserve meeting minutes released during the session indicated that policymakers remain concerned that Middle East tensions could keep inflation elevated, potentially requiring tighter monetary policy for longer. At the same time, some officials still expect at least one interest-rate cut later this year.
With geopolitical risks unresolved and financial markets highly sensitive to policy signals, traders say the coming days will likely determine whether gold resumes its upward momentum or enters a consolidation phase as investors assess the durability of the ceasefire and the trajectory of global interest rates.
For detailed research, guidance, and premium analysis on international and Pakistani gold and silver markets, investors can access the premium services of Goldalyze.
WhatsApp Contact: +92 300 1209057


