GOLD FORECAST UPDATE WITH GOLDALYZE
- GOLDALYZE

- Nov 17
- 5 min read
Scroll Down For English Version
آج ایک عرصہ دراز کے بعد آپ سب کی فرمائش پر آرٹیکل لکھنے کا شرف حاصل کرتا ہوں۔ تفصیلی باتیں کریں گے امید ہے آپ کو پسند آئیں گی اور مفید ثابت ہونگی۔
شروعات کریں گولڈ کی انٹرنیشنل مارکیٹ 3300$ سے چھلانگ لگائی ہوئی جا پہنچی 4400$ کے قریب جہاں پر لوکل مارکیٹ میں پیس 350000 والا ریٹ 4750000 جا پہنچا اور زیادہ نہیں فقط دو ماہ کی کہانی میں۔
اس بات کو اپریل کے ساتھ تشبیہ دیا جائے تو اپریل میں ریٹس میں کچھ ایسی ہی تیزی آئی تھی۔ مگر اپریل والی تیزی 4 ماہ کی تیزی کے بعد 4 ماہ کا سناٹا بھی تھا۔ اب کی بار تیزی 2 ماہ کی تھی کچھ تو آرام ضروری دیکھا جاتا ہے۔
سادہ الفاظ میں اگر بیان کیا جائے گولڈ کی مارکیٹ سست ہے کوئی خاص مزیداری والا معاملہ نہیں یے۔ کچھ مختصر اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے ایک مختصر ڈبے کے اندر۔
بات کرین خبر اخبار کی تو سب سے اہم بات کہ چائنہ نے کچھ غلط وقت پر غلط فیصلہ کرتے ہوئی اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ چائنہ میں گولڈ کی ڈیمانڈ میں ٹیرف ڈیل کے بعد انتہائی سستی دیکھنے میں آئی ہے۔ بات کریں انڈیا کی تو دیوالی سیزن پر انڈیا میں ٹوٹ کر خریداریاں ہوئی ہیں۔ انڈیا میں اتنی ڈیمانڈ تھی کہ ریٹ سے مزید اوپر پیسے دے کر لوگ مال لے رہے تھے مگر ان کے ساتھ بھی دھوکہ ہوا جہاں ریٹ کمزور ہوئے تو دیوالی کے بعد جو شادیوں کی ڈیمانڈ ہے لوگ ڈر رہے ہیں لینے سے۔
یاد رہے جب چائنہ اور انڈیا کی ڈیمانڈ کی بات کی جائے تو ایسا نہیں کہ چھوٹا موٹا کچھ بات ہے مگر یہ دونوں ملک گولڈ کے بڑے خریدار ہیں۔
کچھ سیاسی باتیں کریں تو ٹرمپ بھی آجکل خاموش پائے جاتے ہیں۔ شٹ ڈاؤن 43 دن کے بعد ہوا ختم۔ مگر ایک تلوار جو ٹرمپ ٹیرف کیس ابھی بھی سر پر گھوم رہی ہے۔ بھول گئے ٹرمپ اسرائیل فلسطین کو بھول گئے ٹرمپ روس اور یوکرین کو بھول گئے پاکستان اور انڈیا کو۔
پاکستان کی بھی پڑوسیوں سے دوستی اچھی نہیں جا رہی۔ خیر اس بارے میں بات نہیں کرتے۔
آخر میں ایک سادہ سا جواب کہ گولڈ میں فل وقت فقط حسب ذائقہ کام ہے۔ کوئی کھل کر مندہ تیزی نہیں ہے۔ جس کی وجہ اور کوئی نہیں مگر انوسٹر کے باس اور بہت سارے آپشن موجود ہیں۔ مانا بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو بھی کمزور ہے۔ سٹاک ایکسچینج بھی کمزور ہے۔ سب کچھ لال لال ہے اور یہ بات واضح رہے کہ یہ ماہ بہت آئٹم امپورٹ ایکسپورٹ کا سیزن ہے اور بڑے کھلاڑی تمام مصروف ہیں۔
کیونکہ شٹ ڈاؤن تھا ڈیٹا ہی نہیں تھے مگر اس دوران امریکہ کو کافی نقصان کا سامنا ہوا۔ یہی وجہ ٹرمپ بھی خاموش ہیں۔ پچھلے ہفتے ڈیٹا شایع نہیں کیے گئے جبکہ اس ہفتہ امریکہ فیڈ نے وعدہ کیا کہ ڈیٹا شایع کئے جائیں گے مگر لگتا نہیں کہ ہونگے۔ ڈیٹا اگر شایع ہونگے تو ہی فیڈ ریٹ کٹ کی طرف جائے گا وگرنہ مشکل صورتحال ہے۔ ریٹ کٹ کے امکانات ابھی کے مطابق %46 پر موجود ہیں۔
مارکیٹ میں ایک سوال اہم پوچھا جاتا کہ کیا مارکیٹ واپس 4400$ کو ہاتھ لگائے گی یا نہیں تو اس کا ایک مختصر سا جواب کہ لگائے گی ضرور مگر وقت لگے گا اور اس سے پہلے نیچے آئے یا کتنا وقت لے کچھ کہ نہیں سکتے مگر جلدی ہاتھ لگانے کے لیے تین چیزیں درکار ہیں پہلی کہ سپریم کورٹ ٹرمپ ٹیرف کے حق میں فیصلہ سنا دے دوسری کہ تمام اہم ڈیٹا گولڈ کے حق میں آئیں اور فیڈ مجبور ہو ریٹ کٹ پر جبکہ تیسری کہ کوئی سیاسی کشیدگی ہو جائے۔ ان تینوں باتوں کی فل وقت آثارات کم دکھائی پڑتے ہیں البتہ معجزات بھی ہوتے ہیں مگر فل وقت اصلیت کے مطابق آثار کم ہیں۔
مختصر تھی ایک یہ داستان۔
گولڈ اور سلور کی انٹرنیشنل اور لوکل مارکیٹ میں مکمل رہنمائی کے لئے گولڈالائز کی پریمیم سروسز حاصل کریں۔
واٹس ایپ نمبر: 03001209057
After quite a long pause, I once again have the privilege of writing for all of you upon your repeated requests. Today, we will discuss things in detail, and I hope you find these insights both valuable and meaningful.
The international gold market, which had surged from $3,300, leapt all the way to the $4,400 region—a dramatic rise that mirrored local market movement, where prices that once rested around Rs 350,000 skyrocketed to nearly Rs 4,75,000. And all of this unfolded in a story hardly longer than two months.
If we compare this with April, the movement seems somewhat familiar. April witnessed a similar burst of acceleration, but it was soon followed by nearly four months of stagnation. This time, however, the rally lasted only two months, so a phase of cooling off is naturally expected.
In simpler terms, the gold market at the moment is slow, lacking any particular charm or excitement. Prices remain confined to a small box-range, rising and falling only in modest bursts.
As for the news front, the most striking development is China’s ill-timed and ill-considered decision, which has effectively backfired on its own economy. After the tariff deal, gold demand in China has plunged. Contrast this with India, where during the Diwali season buyers flooded the markets with such enthusiasm that many were willing to pay above the listed price just to secure their gold. But even there, disappointment followed when prices weakened, causing wedding-season buyers to hesitate.
China and India are not minor players; they are two of the world’s largest consumers of gold. Whenever demand shifts in these giants, the global market feels the tremors.
On the political side, Trump appears unusually silent these days. The government shutdown finally ended after 43 days, yet the looming threat of the Trump tariff case still hangs like a sword over his head. It seems he has forgotten Israel–Palestine, forgotten Russia–Ukraine, and even forgotten Pakistan–India.
Pakistan itself is not enjoying smooth relations with its neighbours, though that is a discussion for another day.
In the end, the simplest truth is that the gold market currently offers nothing more than light-tasting opportunities. There is no clear bullish or bearish trend. Investors have too many other options—though Bitcoin and cryptocurrencies remain weak, and even the stock market is struggling. Everything is red these days. And remember, this period is a peak season for importers and exporters, so major players are already deeply occupied.
Because of the prolonged shutdown, economic data was never released, and the U.S. suffered significant damage during this time. This is one reason for Trump’s silence. Last week, no data was published, and although the Federal Reserve promised releases this week, it still seems unlikely. Only if the data comes out can the Fed move toward a rate cut; without it, the situation remains uncertain. At present, the chances for a rate cut stand around 46%.
Many people are asking whether gold will once again touch $4400. The short answer is yes, it will—but it will take time. Whether the market dips before that or how long the recovery takes, no one can say. But for a quick return to the $4400 level, three conditions must align: first, the Supreme Court must rule in Trump’s favour on the tariff case; second, all major economic data must turn positive for gold, pushing the Fed toward a rate cut; and third, some form of geopolitical tension would need to arise. At the moment, however, none of these signs appear strong—though miracles are always possible. Yet realistically speaking, the probability remains low for now.
And so this short gold tale comes to an end.
For complete guidance on international and local gold and silver markets, you may avail Goldalyze’s premium services.
WhatsApp: 03001209057


