top of page
Search

Fed vs. Trump: Inside the Rate War That's Whipsawing Gold Before September's Verdict

Scroll Down For English Version


پہلے مقامی مارکیٹ کی تصویر دیکھتے ہیں کیونکہ یہاں سے کہانی شروع ہوتی ہے۔ 7 اور 8 اگست کو سونے نے 443800 روپے اور چاندی نے 6650 روپے کی اہم مزاحمت بیک وقت عبور کی جو ایک تصدیق شدہ بریک آؤٹ تھا۔ اس کے بعد سونا 24 اگست کو اپنی ماہانہ چوٹی 486000 روپے تک پہنچا جبکہ چاندی 7500 روپے تک گئی۔ مہینے کے آخر میں اصلاح شروع ہوئی اور سونا واپس 450000 روپے جبکہ چاندی 6650 روپے کی سطح پر آ گئی۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ دونوں سطحیں 2 ستمبر کو بالکل درست طریقے سے سپورٹ ثابت ہوئیں یعنی مارکیٹ نے اپنی ہی پرانی مزاحمت کو اب سپورٹ کے طور پر مضبوطی سے تھام لیا ہے جو تکنیکی لحاظ سے صحت مند علامت ہے۔


اب اصل کہانی کی طرف آتے ہیں جو فیڈ اور ٹرمپ کے درمیان جاری کشمکش ہے۔ 28 اگست کو فیڈ چیئرمین کیون وارش نے جیکسن ہول میں اپنی پہلی تقریر میں سخت لہجہ اپنایا اور کہا کہ مہنگائی کے اعداد ابھی بھی فیڈ کے مطلوبہ ہدف سے زیادہ ہیں۔ اس تقریر کے ایک گھنٹے کے اندر ستمبر میں شرح اضافے کا امکان 57 فیصد اور یکم ستمبر تک 66.4 فیصد تک پہنچ گیا۔ اس خبر پر سونا چار ہفتے کی کم ترین سطح یعنی 4282 ڈالر تک گر گیا۔ اوول آفس میں صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے وارش سے شرح سود کے بارے میں بات نہیں کی اور نہ ہی وہ انہیں روکنے کی کوشش کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں وارش پر بہت اعتماد ہے اور وہ وہی کریں گے جو ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ امریکہ کو دنیا کی سب سے کم شرح سود رکھنی چاہیے۔


بدھ کو نیویارک فیڈ کے صدر ولیمز اور جمعرات کو فیڈ گورنر والر نے نرم بیانات دیے۔ والر نے کہا کہ اگر اگست کے اعداد مہنگائی میں کمی کی تصدیق کریں تو وہ ستمبر میں شرح برقرار رکھنے کی حمایت کریں گے۔ ان بیانات پر سونا 4470 ڈالر تک بحال ہوا اور جمعہ کی صبح 4521 ڈالر تک پہنچ گیا جو پورے ہفتے کی بلند ترین سطح تھی۔


مگر جمعہ کو اصل دھماکہ ہوا۔ امریکی بیورو آف لیبر سٹیٹسٹکس نے بتایا کہ اگست میں 162000 نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں جو 53000 کی توقع سے تین گنا زیادہ تھیں جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد پر برقرار رہی۔ یہ مارچ کے بعد سب سے مضبوط ماہانہ رپورٹ تھی۔ اس ایک رپورٹ نے چند منٹوں میں شرح سود کی مارکیٹ کو دوبارہ اضافے کی طرف موڑ دیا اور سونا 1.28 فیصد گر کر 4420 ڈالر پر آ گیا جبکہ چاندی 66.30 ڈالر تک نیچے آ گئی۔ ٹرمپ نے جمعہ کو ہی اپنی دباؤ مہم دوبارہ شروع کر دی اور فیڈ اور وارش کو سمجھداری دکھانے اور شرح سود کم کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارت روکنے کی دھمکی بھی دہرائی۔ نائب صدر وینس نے بھی کم شرح سود کا مطالبہ کیا۔ ایورکور آئی ایس آئی کے کرشنا گوہا نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ دباؤ ستمبر کے اجلاس سے پہلے وارش کے لیے معاملات مزید پیچیدہ بنا رہا ہے کیونکہ وارش پہلے ہی جیکسن ہول میں یہ ذمہ داری ڈیٹا پر ڈال چکے ہیں کہ اسے ثابت کرنا ہو گا کہ شرح نہ بڑھانے کی وجہ موجود ہے۔


گولڈالائز آپ کو کی بات سادہ الفاظ میں سمجھاتا ہے۔


ڈیٹا کے فوری بعد گولڈالائز نے دیکھا کہ ٹرمپ نے غصہ کرتے ہوئے فیڈ کو زبردست دھمکی دی کہ شرح سود میں اگر کمی نہ کی جو گولڈ کے لئے اچھی ہے تو وہ فیڈ کو امریکہ کا دشمن سمجھیں گے۔ البتہ ابھی کے ڈیٹا کے مطابق شرح میں اضافے کی 50 فیصد توقعات ہیں اور شرح سود میں کمی کرنے کی کوئی توقع مارکیٹ میں شامل ہی نہیں۔


گولڈالائز کے مطابق 16 ستمبر سونے کے لیے ایک نہایت ہنگامہ خیز دن ثابت ہونے والا ہے۔


صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں کمی نہ کی تو وہ ان تمام ممالک کے ساتھ تجارت بند کر دیں گے جن کے ساتھ امریکہ کو تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔


گولڈالائز کے مطابق اس اقدام سے عملا امریکہ کے تقریبا 50 فیصد تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تجارت منقطع ہو جائے گی جن میں میکسیکو چین تائیوان جرمنی جاپان جنوبی کوریا کینیڈا اور بھارت شامل ہیں۔


گولڈالائز آپ کو بتاتا چلے کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ انہیں ایسا کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔


دوسری جانب مارکیٹ اب یہ سمجھ رہی ہے کہ فیڈ کے نئے چیئرمین وارش جنہیں خود صدر ٹرمپ نے تعینات کیا ہے وہ اپنے پہلے ہی فیصلے میں شرح سود بڑھا سکتے ہیں۔


گولڈالائز نے یاد رکھا ہے کہ چند ماہ قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ فیڈ چیئرمین کی تقرری کے لیے بنیادی شرط یہی ہو گی کہ وہ شرح سود میں کمی پر آمادہ ہو۔


16 ستمبر کو فیڈرل ریزرو کا اگلا پالیسی فیصلہ متوقع ہے۔


اگر اس روز شرح سود میں کمی نہ کی گئی تو بظاہر امریکہ کے ماہانہ تجارتی حجم میں سے 300 ارب ڈالر سے زائد کی تجارت رک سکتی ہے۔


گولڈالائز اس تمام صورتحال کا مکمل تجزیہ ریئل ٹائم میں پیش کرتے رہیں گے۔


اب اصل سوال یہ کہ کیا 16 ستمبر کو ہونے والی میٹنگ میں شرح سود اضافہ (گولڈ کے لئے قیامت) یا شرح سود میں کمی (گولڈ کے لئے خوشیاں) ہوگی؟


انٹرا ڈے تکنیکی نقطہ نظر سے سونا 4441 سے 4510 ڈالر کے درمیان محدود ہے اور مقامی مارکیٹ میں 450000 روپے کی سپورٹ اہم ہے جس کے ٹوٹنے پر مزید کمزوری ممکن ہے جبکہ برقرار رہنے کی صورت میں 486000 روپے کی چوٹی دوبارہ ٹیسٹ ہو سکتی ہے۔


یہ ہفتہ ثابت کرتا ہے کہ سونا اب مکمل طور پر فیڈ اور ٹرمپ کے درمیان جاری اس کشمکش کے گرد گھوم رہا ہے۔ آنے والے دو ہفتے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔


آگے تین ماہ خوب کام کرنے کے ہیں۔ مارکیٹ میں کام تب ہوتا جب آپ کے پاس مکمل انفارمیشن ہوتی ہے اور مکمل انفارمیشن گولڈالائز کی پریمیم سروسز میں ملتی ہے۔


گولڈالائز آپ کو فیزیکل مارکیٹ میں خرید و فروخت کے سگنلز اور مکمل ریسرچ فراہم کرتا ہے۔


ممبر بننے کے لئے واٹس ایپ پر رابطہ کریں۔

+92 300 1209057


Let's start with the local market, because that's where this story begins. On August 7–8, gold and silver simultaneously broke through key resistance at Rs 443,800 and Rs 6,650 — a confirmed breakout. Gold then ran to its monthly peak of Rs 486,000 on August 24, with silver reaching Rs 7,500. A correction followed into month-end, pulling gold back to Rs 450,000 and silver to Rs 6,650. Notably, both levels held precisely as support on September 2 — the market's old resistance turning into solid support, a technically healthy sign.


Now to the real story: the escalating standoff between the Fed and Trump. On August 28, Fed Chair Kevin Warsh delivered his first Jackson Hole speech with a hawkish tone, saying inflation readings remained above the Fed's target. Within an hour, September hike odds jumped to 57%, reaching 66.4% by September 1. Gold fell to a four-week low of $4,282 on the news. Asked about it in the Oval Office, Trump said he hadn't discussed rates with Warsh and wouldn't try to talk him out of a hike, expressing "a lot of respect" for him — while still insisting the US "should have the lowest interest rates in the world."


Wednesday brought dovish remarks from NY Fed President Williams, followed by Fed Governor Waller on Thursday, who said he'd support holding rates steady in September if August's data confirmed continued disinflation. Gold rallied on that shift, climbing to $4,470 and then opening Friday at $4,521 — the week's high.


Friday delivered the real shock. The Bureau of Labor Statistics reported August payrolls rose 162,000, roughly triple the 53,000 forecast, with unemployment holding at 4.1% — the strongest hiring month since March. Within minutes, rate markets swung back toward a hike, and gold fell 1.28% to $4,420, with silver easing to $66.30. Trump resumed his pressure campaign that same day, calling on the Fed and Warsh to "get smart" and cut rates, while doubling down on his threat to halt trade with major partners unless the Fed complies. Vice President Vance also called for lower rates. Evercore ISI's Krishna Guha noted that Trump's renewed pressure is complicating things further for Warsh ahead of the September meeting, since Warsh's own hawkish Jackson Hole stance already shifted the burden onto the data to justify not hiking.


Through all of this, one thing has stayed steady: central bank buying. The World Gold Council's record 289-tonne Q2 purchases show official buyers accumulating gold regardless of the Fed drama — evidence, analysts say, that this isn't purely a rate-expectations trade but a longer-term protection story too.


Here's the situation in plain terms. Right after Friday's jobs data, Trump angrily threatened the Fed that if it doesn't cut rates — the move that would be good for gold — he'll treat the Fed as an enemy of America. As things stand, the market prices roughly a 50% chance of a hike, with essentially no chance of a cut priced in at all.


September 16 is shaping up to be an extremely turbulent day for gold. President Trump has threatened that if the Fed doesn't cut rates, he'll "halt trade" with every country the US runs a trade deficit with. That would effectively cut off trade with roughly 50% of America's trading partners, including Mexico, China, Taiwan, Germany, Japan, South Korea, Canada, and India. Trump maintains the Supreme Court has ruled he has "full authority" to do this. Meanwhile, the market is increasingly aware that Warsh — Trump's own pick to lead the Fed — could raise rates in his very first real decision. It's worth remembering that months ago, Trump said his key condition for a Fed chair appointment would be a willingness to cut rates. The Fed's next policy decision lands September 16, and if rates aren't cut that day, over $300 billion of America's monthly trade volume could effectively be disrupted.


So the real question now: will the September 16 meeting bring a rate hike — a disaster for gold — or a rate cut — a celebration for gold?


On the intraday technical picture, gold is boxed between $4,441 and $4,510, while locally Rs 450,000 remains the key support — a break below invites further weakness, while holding it keeps Rs 486,000 in reach again.


This week made clear that gold's next move now hinges almost entirely on the Fed-Trump standoff. The next two weeks will be decisive.


Contact GOLDALYZE For Premium Services

WhatsApp: +92 300 1209057

 
 
bottom of page