Gold and Silver Retreat After Record Highs as Oil Shock and Fed Outlook Cloud Momentum
- GOLDALYZE

- 8 minutes ago
- 2 min read
گزشتہ بارہ ماہ کی داستان میں گولڈ یوں ابھرا جیسے وقت کی پیشانی پر لکھا ہوا کوئی روشن حرف جنوری کی اٹھائیسویں صبح جب قیمت 5600 ڈالر فی اونس کی انتہا کو چھوا تو بازار نے اسے فتح کا تاج پہنایا مگر مارچ کی سرد ہوا نے اسی تاج کو جھٹک کر زمین پر گرا دیا اور ایک دہائی کی سب سے تیز ماہانہ گراوٹ میں پندرہ فیصد کی لغزش رقم ہوئی۔ پھر بھی یہ فلز اپنی سانسوں کو سنبھالتا ہوا اپریل کی 24 تاریخ کو 4700 زائد ڈالر پر ٹھہرا دن کی ہلکی سی مسکراہٹ مگر ہفتے کی تھکن اس کے چہرے پر عیاں۔
چاندی نے بھی اپنی کہانی یوں لکھی کہ جیسے بجلی کی لکیر آسمان کو چیرتی ہو۔ 2025 میں %148 فیصد کی حیرت انگیز پرواز پھر جنوری انتیس کو 121 ڈالر کی بلندی مگر اس کے بعد %40 کی لغزش نے اسے ستر سے اٹھہتر کے دائرے میں قید کر دیا۔ اپریل کی 24 تاریخ کو 76 ڈالر پر اس کا قیام دن میں کچھ سنبھلاؤ مگر ہفتے کی اداسی غالب۔
چاندی کا مقامی منظر اس سے بھی زیادہ مضطرب ہے۔ یہاں زوال کی ڈھلوان زیادہ تیز اور بحالی کی سانس زیادہ کمزور محسوس ہوتی ہے، جیسے امید اور حقیقت کے درمیان فاصلہ کچھ بڑھ گیا ہو۔
پاکستان ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن کا پیامبر بنا ہوا ہے اور اسلام آباد کی فضا میں مذاکرات کی سرگوشیاں گردش کر رہی ہیں مگر یہی کردار توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی کے حوالے سے ایک نیا ابہام بھی جنم دیتا ہے۔
خام تیل اس پورے قصے کا مرکزی کردار بن چکا ہے۔
یہ جنگ ایک عجیب تضاد کو جنم دیتی ہے۔
تیل کی بلندی مہنگائی کو ابھارتی ہے۔
مہنگائی فیڈرل ریزرو کی نرمی کو مؤخر کرتی ہے۔
مضبوط ڈالر بغیر منافع والے فلزات پر دباؤ بڑھاتا ہے۔
یوں سونا اور چاندی اس شور میں دب جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی کشیدگی کا خاتمہ وہ لمحہ ہو سکتا ہے جو بیک وقت ان تمام منڈیوں کی تقدیر کا رخ موڑ دے۔
گولڈ اور سلور میں لوکل اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں مکمل ریسرچ اور رہنمائی اور خرید و فروخت برعکس مندہ تیزی کی ہدایات کے لئے گولڈالائز کی پریمیم سروسز حاصل کریں۔
واٹس ایپ پر رابطہ کریں: 03001209057








